ابنا: المستقبل پارٹي سے تعلق رکھنے والے دو سني علما کے فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شمالي لبنان ميں حالات کشيدہ ہو گئے اور يہ بدامني کچھ ہي گھنٹوں ميں دارالحکومت بيروت تک پہنچ گئي- لبنان کے وزير اعظم اور اسپيکر کي جانب سے لوگوں سے صبر وتحمل سے کام لينے کي اپيل کے باوجود بدامني کا سلسلہ جاري ہے اور فائرنگ کي آوازيں مسلسل سنائي دے رہي ہيں-واضح رہے کہ سعد حريري کي جماعت المستقبل سے تعلق رکھنے والے دو علما شيخ احمد عبدالواحد اور خالد المرعبي، ايک مسلح کارواں کے ساتھ جا رہے تھے کہ شمالي لبنان کے عکار علاقے ميں ايک چيک پوسٹ پر فوج نے انہيں روکنے کي کوشش کي تاہم انہوں نے فوج کا حکم ماننے سے انکار کر ديا جس کے بعد ہونے والي جھڑپ ميں يہ دونوں افراد مارے گئے- لبنان کے صدر ميشل سليمان نے بھي عوام سے پرامن رہنے کي اپيل کرتے ہوئے اس واقعے کو ايک ناخوشگوار حادثہ بتايا ہے-......../169
20 مئی 2012 - 19:30
News ID: 316724
بيروت ميں پير کے روز ہونے والي جھڑپوں ميں دو افراد مارے گئے ہيں-